علم تفسیر۔ایک تعارف

علم تفسیر۔ایک تعارف
تحریر: مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
================================
اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفی پر اپنی آخری کتاب قرآن کریم کو نازل کیا ، یہ کتاب چونکہ خالق کائنات اللہ رب العزت کی کتاب ہے ، اس لئے اس کےالفاظ کی تہہ میں معانی ومطالب کے ایسے سمندر موجود ہیں جن کی مکمل غواصی انسان کے بس میں نہیں ، اور اس میں اتنے اعجازی پہلو موجود ہیں جن کا مکمل احاطہ بشری قوت وصلاحیت سے ماوراء ہے، کہ اس کتاب کے الفاظ بھی معجز ہیں، تو ترکیب واسلوب ونظم کے اعجاز بھی انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ انسان ایسے معجزکلام پر قادر ہی نہیں ہے ۔
اس کلام کی یہ بلندی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کی ضامن اس کتاب سے انسانوں کو جوڑنے اور اس کے معانی ومطالب تک انسانی فکر وشعور کو پہونچانے کے لئے کوئی سہارا اور وسیلہ ہو جس کے ذریعہ انسان اس کتاب کو سمجھ کر اپنے خالق کے اوامر ونواہی سے واقف ہوسکے اور مقصد نزول کی تکمیل کرسکے، علم تفسیر درحقیقت وہی سہارا اور ذریعہ ہے، جوقرآن کے سمجھنے اور اس کے مطالب ومعانی کے صحیح ادراک میں معاون بنتاہے ، اور اس کے ذریعہ انسانوں کو اپنے خالق کی مرضی معلوم ہوتی ہے۔
تفسیرکیا ہے ؟
لفظ تفسیر در اصل ’’فَسْرٌ‘‘سے نکلا ہے ،جس کے معنی ہیں: کھولنا،چونکہ اس علم میں قرآن کریم کے مفہوم کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے ،اس لئے اس علم کو’’ علم تفسیر ‘‘کہا جاتا ہے ،ابتداء لفظ تفسیر کا اطلاق صرف قرآن کریم کی تشریح پر ہی ہوتا تھا، چناں چہ علامہ زر کشی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
علم یعرف به فهم کتاب الله المنزل علی نبیه محمد وبیان معانیه واستخراج احکامه وحکمه (البرہان:۱؍۱۳)
’’(علم تفسیر) وہ علم ہے جس سے قرآن کریم کا فہم حاصل ہواور اس کے معانی کی وضاحت اور اس کے احکام اور حکمتوں کا استنباط کیا جاسکے‘‘
لیکن یہ حقیقت ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق تفصیلات کا اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا اوربالآخر یہ ایک انتہائی وسیع اور پہلودار علم بن گیا ، چناں بعد میں علم تفسیرکی تعریف ان جامع الفاظ میں کی گئی:
علم یبحث فیه عن کیفية النطق بألفاظ القرآن ومدلولاتها وأحکامها الإفرادية والترکیبية ومعانیها التی تحمل علیها حالة الترکیب وتتمات لذلك( روح المعانی: ۱؍۵)
’’علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظ قرآن کی ادائیگی کے طریقے، ان کے مفہوم ، ان کے افرادی اور ترکیبی احکام اور ان معانی سے بحث کی جاتی ہے جو ان الفاظ سے ترکیبی حالت میں مراد لئے جاتے ہیں،نیز ان معانی کا تکملہ: ناسخ ومنسوخ، شان نزول اور مبہم قصوں کی توضیح کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے ‘‘
اس تعریف کی روشنی میں علم تفسیر مندرجہ ذیل اجزاء پر مشتمل ہے:
(۱)   الفاظ کی ادئیگی کے طریقے کہ الفاظ قرآن کو کس کس طریقے سے پڑھا جاسکتا ہے ،اسی کو ایک مستقل فن کی صورت بھی دی گئی جسے ’’علم قرأت‘‘ سے موسوم کیا گیا۔
(۲) الفاظ قرآنی کے مفہوم ومعانی ، یعنی ان کا لغوی معنی کیا ہے؟
(۳)  الفاظ کے انفرادی احکام کہ اس کا مادہ کیا ہے ، موجودہ صورت میں کس طرح آیا ہے ؟ اس کا وزن کیا ہے ؟ اور اس وزن کے معانی وخواص کیا ہیں؟یعنی لفظ سے متعلق صرفی مباحث۔
(۴)  الفاظ کے ترکیبی احکام کہ ان الفاظ کی باہمی ترکیب سے کونسامعنی پیدا ہورہا ہے؟ اور ان الفاظ کے حرف آخر پر کونسا اعراب کیوں آیا ہے ؟ یعنی نحوی قواعد کی روشنی میں ترکیبی حالت پر غور۔
(۵)  ترکیبی حالت میں الفاظ کے مجموعی معنی کہ سیاق وسباق کے لحاظ سے پوری آیت کیا معنی دے رہی ہے؟ اس کے لئے علم ادب وعلم بلاغت سے مدد لی جاتی ہے ، بسا اوقات علم حدیث اور علم اصول فقہ سے بھی مدد لی جاتی ہے ۔
(۶)معانی کے تکملے ۔ یعنی آیات قرآنی کے پس منظر کا بیان یا اس کے مجمل کی تفصیل ۔ اس کے لئے عام طور پر علم حدیث سے مدد لی جاتی ہے ، لیکن اس کے علاوہ دیگر علوم سے بھی اس میں مدد لی جاتی ہے ، بلکہ مجمل کی تفصیل کا میدان اتنا وسیع ہے کہ تمام ہی علوم وفنون کی مدد لینی پڑتی ہے ۔
اسی لئے محققین علماء نے لکھا ہے کہ تفسیر کرنے کے لئے یہ ضروری ہے مفسر تمام علوم کا جامع ہو، بالخصوص پندرہ اسلامی علوم سےاس کا واقف ہونا ضروری ہے ۔
(۱)علم لغت
(۲) علم نحو
(۳)علم صرف
(۴)علم اشتقاق
(۵)علم معانی
(۶)علم بیان
(۷)علم بدیع
 (۸)علم قرأت
(۹)علم اصول الدین (عقائد)
(۱۰) علم الاحادیث والسنن والآثار اور احادیث نبویہ کی حفظ وروایت سے متعلقہ علوم ۔ جیسے علم اصول حدیث، علم الجرح والتعدیل وغیرہ
(۱۱)علم اصول فقہ
(۱۲)علم فقہ
(۱۳)علم اسباب النزول
(۱۴)علم القصص والاخبار۔ اسی طرح علم السیر بالحضوص نبی اکرم کی سیرت مبارکہ کا علم ، ادیان سماویہ کی تاریخ کا علم  وغیرہ۔
 (۱۵)علم الناسخ والمنسوخ۔
اس سے اندازہ لگتا ہے کہ علم تفسیر کس قدر اہم اور وسیع علم ہے ، اور مفسرین نے کتاب الہی کی خدمت کے لئے کتنی محنت وجانفشانی سے ان علوم کو حاصل کرکے تفسیری کارناموں کو انجام دیا ہے۔
 علم تفسیر کی اہمیت وفضیلت:
علم تفسیرعلوم اسلامیہ میں افضل اور اعل ی علم ہے؛ یہ وہ علم ہے جس کا کلام الہی سے تمام علوم کے بالمقابل سب سے زیادہ  گہرا تعلق ہے ، اسی کے ذریعہ قرآن کا صحیح فہم حاصل ہوتا ہے ، اور یہ علم اپنے وابستگان کو مرضی رب سے واقف کراکر کبھی نہ فنا ہونے والی سعادت حقیقی کا مستحق بناتا ہے ۔
 اس علم کی فضلیت کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا موضوع کلام اللہ ہے، اور کلام اللہ کے صحیح مفہوم  ومراد سے واقفیت حاصل کرکے مرضی رب کو پانا اور پھردائمی سعادت سے ہمکنار ہونا اس کی غرض وغایت ہے اور یہ انسان کی دینی اور دنیوی کمال کا ایسا زینہ جس کے بغیر کمال کی منزل تک رسائی نہیں ہوسکتی ؛ کیونکہ کوئی کمال علوم شرعیہ اور دینی معرفت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور علوم شرعیہ اور دینی معرفت کتاب اللہ کے علم کے بغیر ناممکن ہے ، اور کتاب اللہ کا صحیح علم علم تفسیر کے بغیر نہیں ہوسکتا- اسی لئے اس علم کی طرف سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ مبذول کی اور اس طرح اس علم کو یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ شخصیت اس کی موجد بنی جن پر یہ کلام الہی نازل ہوا ،  بلکہ قرآن کریم سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ خود اللہ نے  اپنے کلام کی تفسیر وتوضیح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے ، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
{إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیلاً }(المزمل:5)
’’ہم ڈالنے والے ہیں تجھ پر ایک بات وزن دار‘‘
مفسرین اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کلام الہی اور اس کے معانی ومفاہیم اور ان پر عمل کرنا ہے ۔
نیز اس علم کی فضیلت یہ ہے کہ یہ علم علوم مقصودہ میں سے ہے ، اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں اس سے وابستگی اور اس کے حصول کا حکم دیا ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (سورہ محمد : 24)
’’ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ‘‘
اسی لئے صحابہ کرام میں اس علم کے حصول کا اسقدر اہتمام تھا کہ وہ حفظ کلام اللہ کے ساتھ اس کے معانی ومطالب کے بحرعمیق کی غواصی کرتے ہوئے آگے بڑھتے تھے اور جب تک اس کے معانی ومفاہیم کا صحیح ادراک نہ ہوجاتا اس کی طلب وجستجو میں لگے رہتے ،اور آگے نہ بڑھتے – حضرت زید بن خالد فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا مَنْ کَانَ یُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلى الله علیه وسلم أَنَّهُمْ کَانُوا یَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله علیه وسلم عَشْرَ آیَاتٍ، فَلَا یَأْخُذُونَ فِی الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى یَعْلَمُوا مَا فِی هَذِهِ مِنْ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ
’’ہم سے ان صحابہ نے بیان کیا جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ لوگ رسول اللہ سے دس دس آیتیں سیکھا کرتے تھے، اور اگلی دس آیتوں کو اس وقت تک شروع نہ کرتے جب تک کہ اس کے پہلے کی دس آتیوں میں مذکور علم وعمل سے واقف نہ ہوجاتے‘‘
مشہور تابعی امام ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں:
 حدثنا الذین کانوا یقرؤن القرآن کعثمان بن عفان وعبد الله بن مسعود وغیرهم انهم کانوا اذا تعلموا من النبی عشر آیات لم یتجاوزوهاحتی یعلموا ما فیها من العلم والعمل ( الاتقان : ۲؍۱۷۲)
’’ہم سے ان لوگوں نے بیان کیا جو قرآن پڑھاتے تھے جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ کہ وہ لوگ نبی سے دس دس آیتیں سیکھا کرتے تھے، اور آگے اس وقت تک نہ بڑھتے جب تک کہ ان دس آیتوں کے علم وعمل کو سیکھ نہ لیتے‘‘
اسی طرح امام مالک نے مؤطا میں حضرت عبد اللہ بن عمرکے بارے میں نقل کیا ہے کہ وہ آٹھ سال تک سورہ بقرہ کا علم حاصل کرتے رہے، ظاہر ہے کہ صرف سورہ بقرہ میں اتنا طویل لگنے کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ اس کی آیتوں کے الفاظ میں چھپے ہوئے معانی ومطالب کی تہہ میں اترتے ہوئے اس کو سیکھ رہے تھے ، ورنہ صرف عربی عبارت کو تو سیکھنے کی انہیں ضرورت ہی نہیں تھی ؛ کیونکہ عربی تو ان کی مادری زبان تھی-
پھرصحابہ کرام کی طرح تابعین اور تبع تابعین اور بعد کے محدثین وفقاللہہاء اور مفسرین نے بھی اس علم سے اپنی وابستگی رکھی اور کلام اللہ  کی صحیح فہم کی خاطر انہوں نے اس علم کے حصول میں اپنی محنتوں کو صرف کیا اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی یہ علمی وراثت قرآن کریم کے ساتھ ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی اور انشاء اللہ قیامت منتقل ہوتی رہے گی-
علم تفسیر کا ما ٔخذ
علم تفسیر کی اس ابتدائی تعارفی کلمات کے بعد یہ ذہن میں رہنا بھی ضروری ہے کہ تفسیر قرآن کے ماخذ کیا ہیں؟ اور کن ذرائع سے ہم کسی آیت کی تفسیر معلوم کرسکتے ہیں۔
اللہ کی یہ کتاب جہاں دعوت حق اور انسانوں کے نام اس کے رب کا پیغام ہے وہیں یہ احکام واسرار کا مجموعہ بھی ہے ۔اس لئے اس کی بہت سی آیتیں جہاں واضح اور آسان ہیں اور جن کے سمجھنے کے لئے محض زبان دانی کافی ہے ،وہیں بہت سی آیتیں وہ ہیں جن کو اجمال وابہام یا تشریحی دشواری پائی جاتی ہے ،یا ان کو پوری طرح سمجھنے کے لئے ان کے پورےپس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،یا ان سے دقیق قانونی مسائل یا گہرے اسرار ومعارف مستنبط ہوتے ہیں، ایسی آیتوں کو سمجھنے کے لئے محض زبان دانی کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے بہت سے معلومات کی ضرورت پڑتی ہے ،اس لئے لحاظ سے تفسیر قرآن کے کل چھ مأخذ ہیں:
(۱)  خود قرآن کریم۔ یعنی قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہیں، جیسے کہ قرآنی آیت :  صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ  میں منعم علیہم (جن پر اللہ کا انعام ہوا) کو مبہم بیان کیا گیا ہے، اور ان لوگوں کی تعیین نہیں کی گئی ہے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے؟ لیکن اس کی تعیین قرآن کی دوسری آیت سے ہوتی ہے اور وہ یہ ہے :
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا(نساء : ۶۹)
 اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو ایسے ہی لوگ (آخرت میں) ان (مقبول بندوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ کیا ہی اچھے رفیق ہیں!
(2)  احادیث نبویہ: یعنی قرآن کریم کی بہت سی آیتوں کی تشریح وتوضیح احادیث نبویہ سے معلوم ہوتی ہے ؛ کیونکہ رسول اللہ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ آپ اپنے قول وفعل کے ذریعہ آیات قرآنیہ کی تفسیر فرمائیں۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ(النحل: ۴۴)
  ہم نے قرآن آپ پر اسی لئے اتارا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے وہ باتیں وضاحت سے بیان فرمادیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔
اسی طرح اللہ کا ارشاد ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِين (آل عمران: ۱۶۴)
بلاشبہ اللہ نے تو اہل ایمان پر بڑا ہی احسان کیا کہ اس نے ایک رسول ان میں بھیجا جو انہی میں سے ہے۔ وہ ان کو اللہ کی آیتیں سناتا ہے، (ہر طرح کی برائیوں سے) انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، ورنہ (اس کے آنے سے) پہلے یہی لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) تھے۔
اسی لئے رسول اللہ نے اپنے قول وفعل کے ذریعہ آیات قرآنیہ کی توضیح کی ہے۔ مثلا نماز وروزہ کا حکم قرآن میں مجمل آیا ، اس کی تعداد وغیرہ کو احادیث نبو یہ نے بیان کیا۔
(3)  قرآن کریم کی تفسیر کا تیسرا ما ٔخذ اقوال صحابہ ہے ؛ کیونکہ صحابہ کرام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے براہ راست رسول اللہ سے قرآن کریم کے الفاظ ومعانی اور اسرار رموز سیکھا ہے ۔ جیسا کہ یہ بات پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ حفظ کلام اللہ کے ساتھ ساتھ رسول اللہ سے اس کے معانی ومطالب اور مراد ربانی بھی سیکھتے تھے اور اس میں اتنی گیرائی حاصل کرتے تھے کہ ایک ایک سورت سیکھنے میں انہیں کئے سال لگ جاتے تھے۔
 واضح رہے کہ صحابہ کے تفسیری اقوال میں صحیح وسقیم ہرطرح کی روایتیں ملتی ہیں، اس لئے ان اقوال کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنا سے پہلے اصول حدیث کے مطابق ان کی چانچ پڑتال ضروری ہے، اسی طرح صحابہ کے تفسیری اقوال وہاں حجت ہیں جہاں رسول اللہ سے کوئی صریح تفسیر مستند طریقہ پر منقول نہ ہو۔
(4)  تابعین کے اقوال تفسیر کا چوتھا ما ٔخذ ہیں، کیونکہ حضرات تابعین نے صحابہ کرام سے علم حاصل کیا ہے ،اسی لئے اگر کوئی تابعی کسی صحابی سے کوئی تفسیر نقل کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو صحابی کی تفسیر کا ہے، اور اگر خود اپنا قول بیان کرے تو یہ دیکھا جائے گا کہ دوسرے تابعی کا قول اس کے خلاف ہے یا نہیں ؟ اگر دوسرے تابعی کا قول اس کے موافق ہے تو تابعی کی تفسیر حجت ہوگی اور اگر دوسرے تابعی کا قول اس کے خلاف ہے تو اس صورت میں حجت نہیں ہوگی بلکہ اس آیت کی تفسیر کے لئے قرآن کریم ، لغت عرب، احادیث نبویہ آثار صحابہ اور دوسرے شرعی دلائل پر غور کرکےفیصلہ کیا جائے گا۔
(5)  قرآن کریم کا پانچواں ما ٔخذ لغت عرب ہے ،یعنی جس لفظ کی تشریح قرآن وسنت اور آثار صحابہ میں موجود نہ ہواس کی تفسیر لغت عرب کی مدد سے کی جائے گی،اور وہ معنی مراد لیا جائے گا جو اہل عرب کے عمومی محاورات میں متبادر طور پر سمجھا جاتا ہو۔
(6)  قرآن کریم کا تفسیر کا چھٹا ما ٔخذ: عقل سلیم ہے، یعنی قرآن کریم کے اسرار ومعارف ایک بحر ناپیدا کنار کی حیثیت رکھتے ہیں،مذکورہ بالا پانچ ما ٔخذ کے ذریعہ اس کے مضامین کو بقدر ضرورت تو سمجھا جاسکتا ہے ،لیکن جہاں تک اس کے اسرار ومعارف کا تعلق ہے ان کے بارے میں کسی بھی دور میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ ان کی انتہاء ہوگئی بلکہ قرآن کریم کے حقائق واسرار پرغور کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے ، اور جس شخص کو بھی اللہ نے عقل سلیم علم وفراست اورخشیت وانابت کی دولت سے نوازا ہے وہ تدبر کے ذریعہ نئے نئے حقائق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہردور میں مفسرین  نے اپنی فہم کے مطابق اس باب میں اضافہ کیا ہے ۔
تفسیر بالرأی کا حکم
لیکن حدیث نبوی :من تکلم فی القرآن برايه فاصاب فقد اخطا (جو شخص قرآن کریم کے بارے میں اپنی رائے سے گفتگو کرے تو اگر صحیح بات بھی کہے تو اس نے غلطی کی) سے بظا ہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے بارے میں فکر ورائے کی بنیاد پر کوئی بات کہنا بالکل ہی جائز نہیں ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود قرآن کریم نے تدبر واستنباط کو جابجا مستحسن قرار دیا ہے اور اگر فکر وتدبر پر پابندی لگائی جائےتو قرآن وسنت سے شرعی احکام وقوانین کو مستنبط کرنے کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا،لہذا اس حدیث کا مطلب ہر قسم کی رائے پر پابندی لگانا نہیں ہے۔بلکہ اس کا اصل منشأ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر کے لئے جو اصول اجماعی طور پر مسلم اور طے شدہ ہیں ان کو نظر انداز کرکے جو تفسیر محض رائے کی بنیاد پر کی جائے گی وہ ناجائز ہوگی،جس کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں:
(1)   جو شخص تفسیر قرآن کے بارے میں گفتگو کرنے کی اہلیت ہی نہ رکھتا ہو وہ محض اپنی رائے کے بل بوتے تفسیر شروع کردے۔
(2)  کسی آیت کی تفسیر رسول اللہ سے یا صحابہ سے ثابت ہو اس کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی بات شروع کردے۔
(3)  جن آیات میں صحابہ یا تابعین سے تفسیر منقول نہ ہو ان کی تفسیر کرنے میں لغت اور زبان وادب کے اصولوں کو پامال کرے۔
(4)  قرآن وسنت سے براہ راست اجتہاد کی صلاحیت نہ رکھنے کے باوجوداجتہاد کرے۔
(5)  قرآن کریم کی متشابہ آیات کی تفسیر جزم وثوق سے بیان کرےاور اس پر مصر ہوجب کہ خود قرآن نے واضح کردیا ہے کہ اس کے صد فیصد صحیح مراد سے صرف اللہ ہی واقف ہے ۔
(6)  قرآن کریم کی ایسی تفسیر بیان کرے جو اسلام کے اجماعی عقائد واحکام سے متصادم ہو۔
(7) کسی قطعی دلیل کے بغیر اپنے رائے کو درست اور دوسرے مجہتدین کی آراء کو یقینی طور پر باطل قرار دے۔
خلاصہ یہ ہے کہ تفسیر کے اصولوں اور اسلام کے اجماعی طور پر طے شدہ ضوابط وپابندی کرتے ہوئے اپنی رائے سے ایسی تفسیر کرنا جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہواس حدیث کے وعید میں داخل نہیں ہے ۔البتہ اس قسم کا اظہار رائے بھی قرآن وسنت کے وسیع وعمیق علم اور اسلامی علوم میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں۔
اسرائیلی روایات
قرآن کریم کی تفسیر کے مأخذ میں بعض ناقابل اعتبار مأخذ بھی ہیں جنہیں بعض لوگ تفسیر کی بنیاد قرار دے کر غلط فہمیوں اور بعض اوقات گمراہیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسرائیلی روایات ان میں سے ایک ہیں۔ اسرائیلی روایات ان روایات کو کہتے ہیں جو یہودیوں یا عیسائیوں سے ہم تک پہنونچے ہیں ان میں بعض براہ راست ان کی کتابوں سے منقول ہیں اور بعض وہ ہیں جو ان سے سینہ بسینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور عرب کے یہود ونصاری میں معروف ومشہور ہیں۔ اسرائیلیات تین طر ح کی ہیں: پہلی قسم کی وہ اسرائیلیات جن کی تصدیق دوسرے خارجی دلائل سے ہوچکی ہے ،مثلا فرعون کا غرق ہونا وغیرہ وہ تو یقینا قابل قبول ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن وحدیث نے اس کی تائید وتصحیح کردی ہے ۔
دوسری وہ روایتیں ہیں جن کا چھوٹا ہونا دلائل سے ثابت ہوگیا ہو،مثلا یہ قصہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آخری عمر میں بت پرستی میں مبتلاء ہوگئے تھے ، اس کی تردید خود قرآن نے کردی ہے ، اس طرح کی روایتیں ہر گز قابل قبول نہیں ہیں۔
تیسری وہ روایتیں ہیں جن کی خارجی دلائل سے نہ تائید ہوتی ہو نہ تکذیب ایسی روایات کے بارے میں رسول اللہ کا ارشاد ہے :
لا تصدقوها ولا تکذبوها (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
نہ اس کی تصدیق کرو اور نہ ہی اس کی تکذیب کرو
اس قسم کی روایات کو نقل کرنا یا بیان کرنا تو جائز ہے لیکن ان پر کسی دینی مسئلہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔اور نہ ہی ان کی تصحیح وتکذیب کی جاسکتی۔
صوفیاء کرام کی تفسیرین
صوفیاء کرام سے قرآن کریم کی تفسیرکے سلسلہ میں کچھ ایسی باتیں منقول ہیں جو بظاہر تفسیر محسوس ہوتی ہیں مگر وہ آیت کے ظاہر ی اور ماثور معنی کے خلاف ہوتی ہیں جیسے اللہ کے ارشاد ہے :
 وَلَوْ أَنّا كَتَبْنا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيارِكُمْ ما فَعَلُوهُ إِلاّ قَلِيلٌ مِنْهُمْ
’’اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ ہلاک کرو اپنی جان یا چھوڑ نکلو اپنے گھر تو ایسا نہ کرتے مگر تھوڑے ان میں سے اگر یہ لوگ کریں وہ جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو البتہ ان کے حق میں بہتر ہو اور زیادہ ثابت رکھنے والا ہو دین میں‘‘
اس آیت میں  اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيارِکُمْ میں عام مفسرین نے آیت کا ظاہری معنی ہی مراد لیا ہے ، لیکن صوفیاء سے منقول تفسیر میں ان الفاظ قرآنی میں نفس کی مخالفت اور دل کو حب دنیا سے پاک کرنا مراد لیا گیا ہے ، جو بظاہر آیت کے متبادر معنی کے بالکل ہی خلاف ہے ۔ابو عبد الرحمن سلمی لکھتےہیں:
اقتلوا أنفسكم بمخالفة هواها ، أو اخرجوا من دياركم ، أي أخرجوا حب الدنيا من قلوبكم(تفسیر السلمی: ۴۹)
’’نفس کی مخالفت کرکےنفس کو قتل کرو، یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ یعنی اپنے دلوں سے دنیا کی محبت کو نکال دو‘‘
اس قسم کی تفسیر کو بعض حضرات تفسیر سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ صوفیاء بھی اس سے وہی مراد لیتے ہیں جو قرآن کی آیت کا ظاہری مفہوم ہے ،اور جو معنی دلائل سے ثابت ہے ،البتہ اسی معنی کو مراد لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس وجدانی کیفیت کو بھی ذکر کردیتے ہیں ان کی تلاوت کے وقت ان کے قلب پر وارد ہوتے ہیں۔اس لئے اس کو تفسیر سمجھنا درست نہیں۔اور اس کو بنیاد بنا کر صوفیاء کرام پر اعتراض کرنا اور ان پر تنقید کرنا بھی درست نہیں ہے۔

یہاں اپنا ایمیل رجسٹر کریں اور جدید اضافے سے باخبر رہیں